(۱۷۶۴۸) وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَحُمَیْدٌ وَمَطَرٌ وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ مِنَ الْعَرَبِ نَزَلَ عَلَیْہِ نَفَرٌ فَذَبَحَ لَہُمْ شَاۃً وَلَہُ ابْنَتَانِ فَقَالَ لإِحْدَاہُمَا : اذْہَبِی فَاحْتَطِبِی۔ قَالَ : فَذَہَبَتْ فَلَمَّا تَبَاعَدَتْ تَبِعَہَا أَحَدُہُمْ فَرَاوَدَہَا عَنْ نَفْسِہَا فَقَالَتِ : اتَّقِ اللَّہَ۔ وَنَاشَدَتْہُ فَأَبَی عَلَیْہَا فَقَالَتْ : رُوَیْدَکَ حَتَّی أَسْتَصْلِحَ لَکَ۔ فَذَہَبَتْ وَنَامَ فَجَائَ تْ بِصَخْرَۃٍ فَفَلَقَتْ رَأْسَہُ فَقَتَلَتْہُ فَجَائَ تْ إِلَی أَبِیہَا فَأَخْبَرَتْہُ الْخَبَرَ فَقَالَ : اسْکُتِی لاَ تُخْبِرِی أَحَدًا فَہَیَّأَ الطَّعَامَ فَوَضَعَہُ بَیْنَ یَدَیْ أَصْحَابِہِ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ: کُلُوا۔ فَقَالُوا: حَتَّی یَجِیئَ صَاحِبُنَا۔ فَقَالَ:کُلُوا فَإِنَّہُ سَیَأْتِیکُمْ۔ فَلَمَّا أَکَلُوا حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ وَقَالَ: إِنَّہُ کَانَ مِنَ الأَمْرِ کَیْتَ وَکَیْتَ۔ فَقَالُوا: یَا عَدُوَّ اللَّہِ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا وَاللَّہِ لَنَقْتُلَنَّکَ بِہِ۔ فَارْتَفَعُوا إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ فَقَالَ : مَا کَانَ اسْمُ صَاحِبِکُمْ؟ فَقَالُوا: غُفْلٌ۔ قَالَ: ہُوَ کَاسْمِہِ۔ وَأَبْطَلَ دَمَہُ۔ فَہَذَا مُرْسَلٌ۔ [صحیح]
(١٧٦٤٨) عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس عرب میں سے کچھ لوگ آئے، اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے بکری ذبح کی اور ایک بیٹی کو کہا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، وہ گئی تو ان مہمانوں میں سے ایک شخص اس کے پیچھے گیا تو اس لڑکی نے خطرہ محسوس کیا تو وہ کہنے لگی : اللہ سے ڈر اور اسے قسم دی، لیکن اس نے انکار کردیا تو اس نے کہا : ٹھہرو تو میں تمہارے لیے تیار ہو جاؤں وہ چلی گئی اور وہ شخص سو گیا۔ رات کے پہر میں وہ لڑکی پتھر لائی اور اس شخص کے سر کو کچل کر اسے قتل کردیا اور اپنے باپ کو آکر ساری بات بتادی تو اس کے والد نے کہا : خاموش رہو، کسی کو نہ بتانا۔ کھانا لگاؤ انھوں نے کہا : کھاؤ تو مہمانوں نے کہا : ہمارا ساتھی آجائے تو وہ کہنے لگا : آپ کھاؤ وہ آجائے گا۔ جب انھوں نے کھالیا اور اللہ کا شکر ادا کرلیا تو اس نے سارا معاملہ انھیں بتادیا اور وہ کہنے لگے : اے اللہ کے دشمن ! تو نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، ہم تجھے قتل کریں گے تو وہ حضرت عمر کے پاس اسے لے آئے تو حضرت عمر نے پوچھا : اس کا نام کیا تھا ؟ کہا : غفل۔ فرمایا وہ اپنے نام جیسا تھا اور اس کے خون کو باطل قرار دے دیا۔