(١٧٧٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ سَرِیَّۃً مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ جَحْشٍ الأَسَدِیَّ فَانْطَلَقُوا حَتَّی ہَبَطُوا نَخْلَۃَ فَوَجَدُوا بِہَا عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِیِّ فِی عِیرِ تِجَارَۃٍ لِقُرَیْشٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قَتْلِ ابْنِ الْحَضْرَمِیِّ وَنُزُولِ قَوْلِہِ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ } [البقرۃ ٢١٧] قَالَ : فَبَلَغَنَا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَقَلَ ابْنَ الْحَضْرَمِیِّ وَحَرَّمَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ کَمَا کَانَ یُحَرِّمُہُ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { بَرَائَ ۃٌ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ } [التوبۃ ١]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّہُ أَرَادَ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّۃً } [التوبۃ ٣٦] وَالآیَۃَ الَّتِی ذَکَرَہَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَعَمُّ فِی النَّسْخِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
(١٧٧٤٦) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں میں سے ایک لشکر روانہ کیا اور اس پر عبداللہ بن جحش (رض) کو امیر بنایا۔ وہ سفر کرتے کرتے ایک نخلستان میں اترے، وہاں پر انھوں نے قریش کے تجارتی قافلے میں عمرو بن حضرمی کو پایا اور انھیں قتل کردیا اور اسی طرح انھوں نے پوری حدیث بیان کی جس میں اس آیت کے نزول کا بھی ذکر ہے { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ }[البقرۃ ٢١٧] اور اس میں انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی کی دیت دی اور حرمت والے مہینے کی حرمت کو برقرار رکھا جیسا کہ اس کی حرمت کو وہ لوگ باقی رکھتے تھے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ} [التوبۃ ١] ” اللہ اور اس کا رسول بری ہیں۔ “
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے اس آیت : { وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً } کہ مشرکین سے سب مل کر قتال کرو اس کو نسخ میں عام قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم