(١٧٧٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ وَرَجُلٌ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الأَسَدِیُّ قَالَ : قُطِعَ عَلَی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ بَعْثٌ کُتِبْتُ فِیہِ فَلَقِیتُ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَنَہَانِی أَشَدَّ النَّہْیِ ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ کَانُوا مَعَ الْمُشْرِکِینَ یُکَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِکِینَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَیَأْتِی السَّہْمُ یُرْمِی بِہِ فَیُصِیبُ أَحَدَہُمْ فَیَقْتُلُہُ أَوْ یُضْرَبُ فَیُقْتَلُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ذِکْرُہُ فِیہِمْ {إِنَّ الَّذِینَ تَوَفَّاہُمُ الْمَلاَئِکَۃُ ظَالِمِی أَنْفُسِہِمْ قَالُوا فِیمَ کُنْتُمْ قَالُوا کُنَّا مُسْتَضْعَفِینَ فِی الأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَکُنْ أَرْضُ اللَّہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوا فِیہَا فَأُولَئِکَ مَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَسَائَ تْ مَصِیرًا } [النساء ٩٧] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
(١٧٧٤٩) محمد بن عبدالرحمن بن نوفل اسدی نے کہا : مدینہ والوں کو ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا اور اس میں میرا بھی نام لکھا گیا۔ (اسی دوران) میری ملاقات عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے ہوئی تو انھوں نے مجھے بڑی سختی سے منع کیا اور کہا کہ مجھے ابن عباس (رض) نے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تھے جو مشرکین کی فوج کے ساتھ مل گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہ ملے تو جب کبھی مسلمانوں کی طرف سے تیر آتا تو ان کو لگ جاتا اور یہ مرجاتے یا ویسے قتل ہوجاتے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا فَاُولًٰئِکَ مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا ۔ } [النساء ٩٧] ” جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں : تم کس حال میں تھے (ہجرت کیوں نہ کی) ؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے ؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ پہنچنے کی بری جگہ ہے۔ “