(١٧٧٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ یَعْنِی ابْنَ سُلَیْمَانَ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ عَلَی اللَّہِ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ہَاجَرَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ جَلَسَ فِی أَرْضِہِ الَّتِی وُلِدَ فِیہَا ۔ قَالُوا : یَا رَسُول اللَّہِ أَفَلاَ نُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِکَ ؟ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّہَا لِلْمُجَاہِدِینَ فِی سَبِیلِہِ مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّہَ فَسَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہُ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ وَفَوْقَہُ عَرْشُ اللَّہِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ عَنْ فُلَیْحٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٧٧٦٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا۔ چاہے وہ ہجرت کرے یا اپنی ہی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہے۔ صحابہ کرام (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم اس چیز کی لوگوں کو خبر نہ دے دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” بیشک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کا ہے اور جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنتِ فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ درمیانی اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے ہی جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔