(١٧٧٧١) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخُسْرَوْجِرْدِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی ابْنُ کَاسِبٍ حَدَّثَنِی سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قِیلَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ وَہُوَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ : إِنَّہُ لاَ دِینَ لِمَنْ لَمْ یُہَاجِرْ فَقَالَ : لاَ أَصِلُ إِلَی بَیْتِی حَتَّی أَقْدَمَ الْمَدِینَۃَ فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَنَزَلَ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا جَائَ بِکَ یَا أَبَا وَہْبٍ ؟ ۔ قَالَ قِیلَ : إِنَّہُ لاَ دِینَ لِمَنْ لَمْ یُہَاجِرْ ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: ارْجِعْ أَبَا وَہْبٍ إِلَی أَبَاطِحِ مَکَّۃَ فَقِرُّوا عَلَی سَکِنَتِکُمْ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْہِجْرَۃُ وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ وَإِنِ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ۔ [صحیح ]
(١٧٧٧١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ سے کہا گیا اور وہ مکہ کے بالائی حصہ میں تھے کہ جس نے ہجرت نہ کی اس کا کوئی دین نہیں تو انھوں نے کہا کہ جب تک میں مدینہ میں نہیں جاتا اس سے پہلے میں گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ کہتے ہیں کہ وہ مدینہ میں آئے اور حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ہاں اترے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ آپ نے کہا : اے ابو وہب ! تجھے کیا چیز لے آئی تو انھوں نے کہا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ جس نے ہجرت نہیں کی اس کا کوئی دین نہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو وہب ! بطحاء مکہ کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے گھروں میں سکون کرو کیونکہ ہجرت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم کو (جہاد وغیرہ) کے لیے بلایا جائے تو پھر دیر نہ کرنا۔ (قصہ کے علاوہ)