(۱۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی الأَنْصَارِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی بَعْضُ أَہْلِ بَیْتِی عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ رَغَّبْتَنَا فِی السِّوَاکِ ، فَہَلْ دُونَ ذَلِکَ مِنْ شَیْئٍ؟ قَالَ: ((إِصْبَعَاکَ سِوَاکٌ عِنْدَ وُضُوئِکَ تُمِرُّہُمَا عَلَی أَسْنَانِکَ ، إِنَّہُ لاَ عَمَلَ لِمَنْ لاَ نِیَّۃَ لَہُ ، وَلاَ أَجْرَ لِمَنْ لاَ حِسْبَۃَ لَہُ))۔ [ضعیف]
(١٧٩) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص جو بنی عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا، اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ آپ نے ہمیں مسواک کی بڑی ترغیب دلائی ہے، کیا اس کا بدل کوئی اور چیز ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تیری انگلیاں وضو کے وقت مسواک ہیں، ان دونوں کو اپنے دانتوں پر ملو، بیشک اس شخص کا کوئی عمل (قبول) نہیں جس کی نیت نہیں اور اس کے لیے کوئی اجر نہیں جو اللہ تعالیٰ سے اجر کی توقع نہ رکھے۔