(۱۷۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْفَجْرَ فَمَا سَلَّمَ حَتَّی ظَنَّ الرِّجَالُ ذَوُو الْعُقُولِ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالُوا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ کَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ۔ قَالَ: فَتَکَلَّمَ بِشَیْئٍ لَمْ أَفْہَمْہُ فَقُلْتْ: أُیَّ شَیْئٍ قَالَ؟ فَقَالُوا قَالَ: لَوْ طَلَعَتْ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِینَ۔
[صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح المعانی ۱/۱۸۰]
(١٧٨٠) سیدنا عثمان نھدی سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو عقل مند لوگوں نے گمان کیا کہ سورج طلوع ہوگیا، جب انھوں نے سلام پھیرا تو انھوں نے کہا : اے امیر المؤمنین قریب تھا کہ سورج طلوع ہوجاتا۔ فرماتے ہیں کہ انھوں نے کوئی بات کہی، میں اس کو سمجھ نہیں سکا۔ میں نے کہا : کہا بات فرمائی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ آپ نے فرمایا : اگر طلوع ہوجاتا تو ہم کو غافل نہ پاتا۔