(١٧٨٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ أُبْدِعَ بِی فَاحْمِلْنِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَیْسَ عِنْدِی ۔ فَقَالَ رَجُلٌ : أَلاَ أَدُلُّکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی مَنْ یَحْمِلُہُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ أَجْرُ مِثْلِ فَاعِلِہِ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ : أُبْدِعَ بِی یَقُولُ قُطِعَ بِی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
(١٧٨٤٣) (الف) حضرت ابو مسعود انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں تھک گیا ہوں، مجھے سواری دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے پاس نہیں ہے۔ “ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایسا آدمی بتاؤں جو اس کو سواری دے ؟ آپ نے فرمایا : ” بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔ “
(ب) ایک اور روایت میں ابو معاویہ کہتے ہیں میں تھک گیا ہوں کی بجائے میرا راستہ روک دیا گیا۔