(۱۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِی یُونُسُ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔
قَالَ یُونُسُ فِی الْحَدِیثِ: وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ہُوَ الأَعْمَی الَّذِی أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ {عَبْسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَہُ الأَعْمَی} [عبس: ۱۔۲] کَانَ یُؤَذِّنُ مَعَ بِلاَلٍ۔ قَالَ سَالِمٌ: وَکَانَ رَجُلاً ضَرِیرَ الْبَصَرِ وَلَمْ یَکُنْ یُؤَذِّنُ حَتَّی یَقُولَ لَہُ النَّاسُ حِینَ یَنْظُرُونَ إِلَی بُزُوغِ الْفَجْرِ: أَذِّنْ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنِ اللَّیْثِ وَعَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ دُونَ الْقِصَّۃِ۔[صحیح]
(١٧٨٥) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ بلال (رض) رات کو اذان دیتا ہے پس کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔
یونس کی روایت میں ہے : ابن ام مکتوم نابینا تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی { عَبْسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَہُ الأَعْمَی } [عبس : ١۔ ٢] وہ سیدنا بلال (رض) کے ساتھ مؤذن تھے۔ سالم کہتے ہیں کہ ان کی نگاہ خراب تھی، وہ اذان اس وقت کہتے جب لوگ فجر کے طلوع ہونے کو دیکھ لیتے تو ان سے کہتے، اذان دو ۔