(١٧٩٠٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْہَبِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : عَادَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ زِیَادٍ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ الْمُزَنِیَّ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ فَقَالَ مَعْقِلٌ : إِنِّی مُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ بِی حَیَاۃً مَا حَدَّثْتُکَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَا مِنْ عَبْدٍ یَسْتَرْعِیہِ اللَّہُ رَعِیَّۃً یَمُوتُ یَوْمَ یَمُوتُ وَہُوَ غَاشٌّ لِرَعِیَّتِہِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ۔ وَرُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللَّہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا۔
(١٧٩٠٢) حضرت عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار مزنی کی عیادت کے لیے گئے۔ اس مرض میں ہی آپ فوت ہوگئے تھے۔ حضرت معقل بن یسار (رض) نے کہا : میں ایک حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے اور انھوں نے کہا : اگر مجھے علم ہوتا کہ میری زندگی ابھی باقی ہے تو میں یہ حدیث نہ بیان کرتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس بندے کو اللہ کسی قوم کا نگران بنا دے اور وہ اپنی قوم کو دھوکا دے تو وہ جب بھی مرے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی لشکر کو روانہ کرتے اور ان کا امیر مقرر کرتے تو اس کو خاص تقویٰ کی نصیحت کرتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتے۔