(۱۷۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَتْنِی عَمَّتِی أُنَیْسَۃَ قَالَتْ: کَانَ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ یُؤَذِّنَانِ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔ فَکُنَّا نَحْبِسُ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ عَنِ الأَذَانِ فَنَقُولُ: کَمَا أَنْتَ حَتَّی نَتَسَحَّرَ، کَمَا أَنْتَ حَتَّی نَتَسَحَّرَ، وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَ أَذَانِہِمَا إِلاَّ أَنْ یَنْزِلَ ہَذَا وَیَصْعَدَ ہَذَا۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الطیالسی ۱۶۶۱]
(١٧٩١) خبیب بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میری چچی انیسہ فرماتی ہیں کہ سیدنا بلال اور ابن ام مکتوم (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اذان دیا کرتے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بلال (رض) رات کی اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے ، ہم ابن ام مکتوم کو اذان کے لیے روکتے تھے ہم کہتے تھے : تو نے اپنی طرح سحری کردی اور ان کی اذان اس طرح تھی کہ یہ نیچے اترتے اور وہ اوپر چڑھتے۔