(١٧٩٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ : اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلاً مِنْ بَنِی أَسَدٍ عَلَی عَمَلٍ فَجَائَ یَأْخُذُ عَہْدَہُ قَالَ فَأُتِیَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِبَعْضِ وَلَدِہِ فَقَبَّلَہُ قَالَ : أَتُقَبِّلُ ہَذَا ؟ مَا قَبَّلْتُ وَلَدًا قَطُّ ۔ فَقَالَ عُمَرُ : فَأَنْتَ بِالنَّاسِ أَقَلُّ رَحْمَۃً ہَاتِ عَہْدَنَا لاَ تَعْمَلْ لِی عَمَلاً أَبَدًا۔[حسن ]
(١٧٩٠٦) حضرت ابو عثمان نہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے بنو اسد کے آدمی کے ذمہ ایک کام لگایا۔ جب وہ کام کر کے واپس آیا تو اس وقت حضرت عمر کے پاس ان کا کوئی بچہ لایا گیا تو انھوں نے اس کو بوسہ دیا تو اس نے کہا کہ کیا آپ اس کو بوسہ دیتے ہیں ! میں نے کبھی کسی بچے کو بوسہ نہیں دیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم لوگوں کے معاملہ میں مہربانی کم ہے ہمارا کام واپس کر دے اور آئندہ کبھی ہمارے لیے کام نہ کرنا۔