(١٧٩١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ عَمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالِ قَاتَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمُشْرِکِینَ لَئِنِ أَشْہَدَنِی اللَّہُ قِتَالاً لَیَرَیَنَّ اللَّہُ مَا أَصْنَعُ ۔
فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ انْکَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا جَائَ بِہِ ہَؤُلاَئِ یَعْنِی الْمُشْرِکِینَ وَأَعْتَذَرُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہَؤُلاَئِ یَعْنِی الْمُسْلِمِینَ ثُمَّ مَشَی بِسَیْفِہِ فَلَقِیَہُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ : أَیْ سَعْدُ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی لأَجِدُ رِیحَ الْجَنَّۃِ دُونَ أُحُدٍ وَاہًا لِرِیحِ الْجَنَّۃِ ۔
قَالَ سَعْدٌ : فَمَا اسْتَطَعْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا صَنَعَ فَوَجَدْنَاہُ بَیْنَ الْقَتْلَی وَبِہِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَۃً مِنْ ضَرْبَۃٍ بِسَیْفٍ وَطَعْنَۃٍ بِرُمْحٍ وَرَمْیَۃٍ بِسَہْمٍ وَقَدْ مَثَّلُوا بِہِ حَتَّی عَرَفَتْہُ أُخْتُہُ بِبَنَانِہِ ۔
قَالَ أَنَسٌ : کُنَّا نَقُولُ أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ } [الأحزاب ٢٣] فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ ۔ کَذَا فِی کِتَابِی وَالصَّوَابُ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٧٩١٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : انس بن مالک کے چچا نضر بن انس بدر کی لڑائی سے غائب رہے۔ جب وہ آئے تو کہا کہ میں پہلی لڑائی سے غائب ہوا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین سے لڑی ہے۔ اگر میں حاضر ہوتا تو اللہ دیکھتا کہ میں کیا کرتا۔
جب احد کا موقعہ آیا تو مسلمانوں نے اس کو ظاہر کردیا اور اس کے کام کو دیکھ لیا۔ اس نے کہا : اے اللہ ! میں مشرکوں کے ارادہ سے بری ہوں اور مسلمان جو کریں میں ان کو معذور سمجھتا ہوں۔ پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ (رض) سے ملے۔ ان کو رسول اللہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے احد سے آگے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے۔ سعد (رض) کہتے ہیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا۔ ہم نے اس کو مقتولین میں پایا۔ ان کو اسی سے اوپر زخم آئے تھے جس میں تلوار نیزہ اور تیر سب کے زخم تھے۔ ان کا مثلہ کردیا گیا تھا ان کی بہن نے ان کی انگلی کے پورے سے پہچانا تھا۔ انس (رض) کہتے ہیں : ہم کہا کرتے تھے کہ آیت { مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ } [الأحزاب ٢٣] ” مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انھوں نے عہد کیا تھا۔ “ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں : میری کتاب میں اسی طرح ہے مگر صحیح نضر بن انس کی بجائے انس بن نضر ہے۔