(١٧٩٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِی الْحَسَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ شَاہِینَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ خَالِدٍ یَعْنِی الْحَذَّائَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ وَہُوَ فِی قُبَّۃٍ لَہُ یَوْمَ بَدْرٍ : أَنْشُدُکَ عَہْدَکَ وَوَعْدَکَ اللَّہُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ ہَذَا الْیَوْمِ أَبَدًا ۔ فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِیَدِہِ فَقَالَ : حَسْبُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَی رَبِّکَ وَہُوَ فِی الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَہُوَ یَقُولُ { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ أَدْہَی وَأَمَرُّ } [القمر ٤٥-٤٦] ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاہِینَ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
(١٧٩٣١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے دن اپنے خیمے میں تھے اور کہہ رہے تھے : ” اے اللہ ! میں تجھے تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ “ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا : اے اللہ کے رسول ! کافی ہوگیا۔ آپ نے اللہ کے سامنے بہت اصرار کرلیا ہے۔ وہ اس وقت ذرہ پہنے ہوئے تھے اور خیمے سے باہر آئے اور یہ آیات پڑھ رہے تھے : { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ۔ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ ۔ } [القمر ٤٥-٤٦] ” عن قریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔ بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔ “