(١٧٩٤٥) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّائُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْغَزْوِ ؟ قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیَّ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُغْزِی وَلَدَہُ وَیَحْمِلُ عَلَی الظَّہْرِ وَمَا أَقْعَدَہُ عَنِ الْغَزْوِ إِلاَّ وَصَایَا عُمَرَ وَصِبْیَانٌ صِغَارٌ وَإِنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَرَی الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَفْضَلَ الأَعْمَالِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ ۔ [حسن ]
(١٧٩٤٥) حضرت عبداللہ بن عون نے نافع کو لکھا کہ ابن عمر (رض) غزوات میں کیوں نہ گئے تو انھوں نے جواب میں لکھا کہ ان کے بیٹے جہاد پر جاتے اور وہ ان کے بعد ذمہ داری ادا کرتے تھے اور وہ حضرت عمر (رض) کی وصیت کی وجہ سے پیچھے رہتے تھے کیونکہ ان کے بچے چھوٹے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) جہاد فی سبیل اللہ کو نماز فرض کے علاوہ باقی تمام اعمال سے افضل قرار دیتے تھے۔