(١٧٩٥٥) وَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ أَبِی یُوسُفَ عَنِ الْمُجَالِدِ عَنْ عَامِرٍ وَزِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَدْ أَمْدَدْتُکَ بِقَوْمٍ فَمَنْ أَتَاکَ مِنْہُمْ قَبْلَ أَنْ تَتَفَقَّأَ الْقَتْلَی فَأَشْرِکْہُ فِی الْغَنِیمَۃِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَہَذَا غَیْرُ ثَابِتٍ عَنْ عُمَرَ وَلَوْ ثَبَتَ عَنْہُ کُنَّا أَسْرَعَ إِلَی قَبُولِہِ مِنْہُ ثُمَّ ذَکَرَ مُخَالَفَۃَ أَبِی یُوسُفَ حَدِیثَ عُمَرَ ہَذَا۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَہُوَ مُنْقَطِعٌ وَرَاوِیہِ مُجَالِدٌ وَہُوَ ضَعِیفٌ وَحَدِیثُ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ إِسْنَادُہُ صَحِیحٌ لاَ شَکَّ فِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شَیْئٌ یَثْبُتُ فِی مَعْنَی مَا رُوِیَ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا لاَ یَحْضُرْنِی حَفِظُہُ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : إِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ حَدِیثَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی قِصَّۃِ أَبَانَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ حِینَ قَدِمَ مَعَ أَصْحَابِہِ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِخَیْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَہَا فَلَمْ یَقْسِمْ لَہُمْ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ بِأَسَانِیدِہِ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ ۔ [ضعیف ]
(١٧٩٥٥) حضرت عمر (رض) نے سعد بن ابی وقاص کو لکھا : آپ کی مدد کے لیے کچھ لوگ بھیج رہا ہوں۔ ان میں سے جو مقتولین کے اکھڑنے سے پہلے پہنچ جائیں ان کو غنیمت میں شریک کرو۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ حضرت عمر (رض) سے ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہوجائے تو ہم جلدی قبول کریں گے۔ پھر ابو یوسف کی مخالفت ذکر کی ہے جو عمر (رض) کی اس حدیث کے ساتھ ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ منقطع ہے، اس کا راوی مجالد ضعیف ہے۔ طارق بن شہاب والی حدیث کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس میں کچھ ثابت ہے جو ابوبکر و عمر (رض) سے منقول روایت کے موافق ہے مگر مجھے اچھی طرح یاد نہیں تھا۔
شیخ فرماتے ہیں : شاید ان کی مراد ابوہریرہ کی حدیث ہے جس میں ابان بن سعید بن عاص کا واقعہ ہے۔ جب ان کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ خیبر کو فتح کرچکے ۔ تھے آپ نے ان کو حصہ نہیں دیا۔ یہ پہلے کتاب القسم میں گزر گیا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے۔