(١٧٩٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَی جَیْشٍ إِلَی أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنِ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللَّہُ أَصْحَابَہُ ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَبُو عَامِرٍ کَانَ فِی جَیْشِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَعَہُ بِحُنَیْنٍ فَبَعَثَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی اتِّبَاعِہِمْ وَہَذَا جَیْشٌ وَاحِدٌ کُلُّ فِرْقَۃٍ مِنْہُ رِدْئٌ لِلأُخْرَی وَإِذَا کَانَ الْجَیْشُ ہَکَذَا فَلَوْ أَصَابَ الْجَیْشُ شَیْئًا دُونَ السَّرِیَّۃِ أَوِ السَّرِیَّۃُ شَیْئًا دُونَ الْجَیْشِ کَانُوا فِیہِ شُرَکَائَ ۔
(١٧٩٥٧) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو آپ نے ابو عامر کو ایک دستے کا امیر بنا کر اوطاس کی جانب روانہ کیا درید بن صبہ کی طرف۔ انھوں نے اس کو پایا اور وہ قتل ہوا۔ اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ابو عامر حنین کی جنگ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر میں تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے کچھ پیروکاروں کے ساتھ بھیجا۔ یہ ایک لشکر تھا۔ ہر گروہ دوسرے کا مددگار تھا۔ جب لشکر کی یہ حیثیت ہو تو جس کو بھی غنیمت ملے تو لشکر اور علیحدہ گروہ دونوں اس میں شریک ہوں گے۔