(١٧٩٦٠) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ شَرِیکٍ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ الْعَبْدِیِّ عَنْ کُلْثُومِ بْنِ الأَقْمَرِ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ عَرَّبَ الْعِرَابَ رَجُلٌ مِنَّا یُقَالُ لَہُ مُنَیْذِرٌ الْوَادِعِیُّ کَانَ عَامِلاً لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی بَعْضِ الشَّامِ فَطَلَبَ الْعَدُوَّ فَلَحِقَتِ الْخَیْلُ وَتَقَطَّعَتِ الْبَرَاذِینُ فَأَسْہَمَ لِلْخَیْلِ وَتَرَکَ الْبَرَاذَیْنَ وَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نِعِمَّا رَأَیْتَ فَصَارَتْ سُنَّۃً ۔ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ۔ ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی نَذْہَبُ إِلَیْہِ مِنْ ہَذَا تَسْوِیَۃٌ بَیْنَ الْخَیْلِ وَالْعِرَابِ وَالْبَرَاذِینِ وَالْمَقَارِیفِ وَلَوْ کُنَّا نُثْبِتُ مِثْلَ ہَذَا مَا خَالَفْنَاہُ ۔ [ضعیف ]
(١٧٩٦٠) کلثوم بن اقمر فرماتے ہیں : ہمارے اندر گھوڑوں کی تعریب کرنے والا پہلا شخص منیذر وداعی تھا۔ یہ حضرت عمر (رض) کی طرف سے شام کے بعض علاقوں کا امیر تھا۔ اس نے دشمن کو تلاش کیا۔ گھوڑے مل گئے اور غیر عربی گھوڑے بےبس ہوگئے۔ اس نے گھوڑوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور غیر عربی گھوڑوں کو چھوڑ دیا اور حضرت عمر (رض) کو لکھا تو حضرت نے جواب دیا کہ تیرا خیال اچھا ہے تو یہ طریقہ بن گیا۔ امام شافعی کہتے ہیں : اس بارے میں ہمارا خیال ہے کہ عربی غیر عربی گھوڑوں کو اور جس گھوڑے کی ماں عربی اور باپ غیر عربی یا اس کے الٹ ہو سب کو برابر رکھا جائے گا اور اگر ہم اس طرح برقرار رکھتے تو ہم مخالفت نہ کرتے۔