(١٧٩٧١) فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزَا بِنَاسٍ مِنَ الْیَہُودِ فَأَسْہَمَ لَہُمْ فَہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ مُنْقَطَعًا۔ [ضعیف۔ منقطع ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالْحَدِیثُ الْمُنْقَطِعُ عِنْدَنَا لاَ یَکُونُ حُجَّۃً ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرَوَی الْوَاقِدِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی سَبْرَۃَ عَنْ فُطَیْرٍ الْحَارِثِیِّ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِعَشَرَۃٍ مِنَ الْیَہُودِ مِنْ یَہُودِ الْمَدِینَۃِ إِلَی خَیْبَرَ فَأَسْہَمَ لَہُمْ کَسُہْمَانِ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَہَذَا مُنْقَطِعٌ وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔
(١٧٩٧١) زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ یہودی لوگوں کو ساتھ ملا کر جہاد کیا ہے اور ان کا حصہ بھی مقرر کیا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منقطع ہے اس لیے حجت نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : فطیہ حارثی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے دس یہودیوں کو ساتھ لے کر خیبر کی طرف گئے اور ان کے لیے مسلمانوں کی طرح حصہ بھی مقرر کیا۔ یہ بھی منقطع ہے۔