hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17979

.

سنن البيهقي

17979
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٩٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ وَہَذَا حَدِیثُہُ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِیعَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزَ أَنَّہُ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَۃَ عَلَی أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ أَبُو صِرْمَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا سَعِیدٍ ہَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَذْکُرُ الْعَزْلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزْوَۃَ الْمُصْطَلِقِ فَسَبَیْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ وَطَالَتْ عَلَیْنَا الْعُزْبَۃُ وَرَغِبْنَا فِی الْفِدَائِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَ أَظْہُرِنَا فَلاَ نَسْأَلُہُ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : لاَ عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا کَتَبَ اللَّہُ خَلْقَ نَسَمَۃً ہِیَ کَائِنَۃٌ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ سَتَکُونُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَقُتَیْبَۃَ ۔ وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ قَسَمَ بَیْنَہُم غَنَائِمَہُمْ قَبْلَ الرُّجُوعِ إِلَی الْمَدِینَۃِ کَمَا قَالَ الأَوْزَاعِیُّ والشَّافِعِیُّ ۔ قَالَ أَبُو یُوسُفَ : افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِلاَدَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَظَہَرَ عَلَیْہِمْ فَصَارَتْ بِلاَدُہُمْ دَارَ الإِسْلاَمِ وَبَعَثَ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ یَأْخُذُ صَدَقَاتِہِمْ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ] قَالَ الشَّافِعِیُّ مُجِیبًا لَہُ عَنْ ذَلِکَ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہِمْ وَہُمْ غَارُّونَ فِی نَعَمِہِمْ فَقَتَلَہُمْ وَسَبَاہُمْ وَقَسَمَ أَمْوَالَہُمْ وَسَبْیَہُمْ فِی دَارِہِمْ سَنَۃَ خَمْسٍ وَإِنَّمَا أَسْلَمُوا بَعْدَہَا بِزَمَانٍ وَإِنَّمَا بَعَثَ إِلَیْہِمُ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ مُصَدِّقًا سَنَۃَ عَشْرٍ وَقَدْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْہُمْ وَدَارُہُمْ دَارُ حَرْبٍ قَالَ الشَّیْخُ أَمَّا قَوْلُہُ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ سَنَۃَ خَمْسٍ فَکَذَلِکَ قَالَہُ عُرْوَۃُ وَابْنُ شِہَابٍ ۔
(١٧٩٧٣) ابو صرمہ نے ابو سعید خدری سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ہم نے معززین عرب کو قیدی بنایا اور اپنے گھر سے دوری طویل ہو رہی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ کچھ مال دے کر فائدہ حاصل کریں اور عزل کریں تو ہم نے کہا : ہم عزل کریں جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان میں موجود ہیں اور ہم ان سے سوال نہ کریں۔ ہم نے سوال کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم پر کوئی حرج نہیں اگر نہ کرو جس جان کے پیدا ہونے کا اللہ نے لکھ دیا کہ وہ پیدا ہونے والی ہے قیامت تک وہ پیدا ہو کر رہے گی۔
اس میں دلیل ہے کہ آپ نے مدینہ آنے سے پہلے مال غنیمت کو تقسیم کیا ہے جیسا کہ امام اوزاعی اور امام شافعی ; کا موقف ہے۔ ابو یوسف (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بنو مصطلق کو فتح کیا اور ان پر غالب ہوئے تو ان کا علاقہ دار السلام میں شامل ہوگیا اور آپ نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوۃ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا تھا۔
امام شافعی (رح) نے ابو یوسف کا رد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہ اپنے جانوروں میں مشغول تھے۔ ان کے قیدیوں کو قتل کیا گیا اور مالوں کو اور قیدیوں کو تقسیم کیا گیا۔ یہ ان کے علاقہ میں پانچ ہجری میں ہوا جبکہ وہ اس کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے۔ پھر آپ نے ولید بن عقبہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور یہ دس ہجری کا وقت ہے اور جب آپ ان سے فارغ ہو کر لوٹے تو وہ ابھی دشمن کا علاقہ تھا۔
شیخ (رض) فرماتے ہیں : یہ پانچ ہجری کو ہوا اسی طرح عروہ اور ابن شہاب کہتے ہیں۔