(۱۸۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ یُقَالُ لَہُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَہُ عُمَرُ۔
ذَکَرَ نَحْوَہُ یَعْنِی نَحْوَ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَیْرِہِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ یُقَالُ لَہُ مَسْرُوحٌ أَوْ غَیْرُہُ۔
وَرَوَاہُ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ یُقَالُ لَہُ مَسْعُودٌ فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاکَ یَعْنِی حَدِیثَ عُمَرَ أَصَحُّ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّہُ قَالَ: عَجِّلُوا الأَذَانَ بِالصُّبْحِ یُدْلِجُ الْمُدْلِجُ وَیَخْرُجُ الْعَامِرَۃُ۔ [حسن۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۳۳]
(١٨٠١) (الف) نافع سیدنا عمر (رض) کے مؤذن سے نقل فرماتے ہیں، جس کو مسروح کہا جاتا تھا، اس نے صبح سے پہلے اذان دے دی، سیدنا عمر (رض) نے اس کو حکم دیا۔۔۔ آگے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح حدیث بیان کی۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ صبح کی اذان جلدی دو تاکہ داخل ہونے والا داخل ہوجائے اور گھر میں رہنے والا اٹھ پڑے۔ (ب) امام ابوداؤد فرماتے ہیں : حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے انھوں نے نافع وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر (رض) کا مقرر کردہ مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا اس کے علاوہ اور کوئی تھا۔
(ج) دراوردی، نے عبیداللہ بن عمر سے انھوں نے نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) کا ایک مؤذن تھا، اس کا نام مسعود تھا۔ انھوں نے بھی پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
(د) امام ابوداؤد کہتے ہیں : سیدنا عمر (رض) والی یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔