(١٨٠٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِیلَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ وَقُرَیْظَۃِ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی النَّضِیرِ وَأَقَرَّ قُرَیْظَۃَ وَمَنَّ عَلَیْہِمْ حَتَّی حَارَبَتْ قُرَیْظَۃُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَتَلَ رِجَالَہُمْ وَقَسَمَ نِسَائَ ہُمْ وَأَوْلاَدَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ بَعْضَہُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَآمَنَہُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَہُودَ الْمَدِینَۃِ بَنِی قَیْنُقَاعَ وَہُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ سَلاَمٍ وَیَہُودَ بَنِی حَارِثَۃَ وَکُلَّ یَہُودِیٍّ بِالْمَدِینَۃِ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٠٢١) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑائی کی۔ آپ نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا اور قریظہ والوں کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا۔ اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی لڑائی کی۔ آپ نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا اور ان کو چھوڑ دیا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مل گئے۔ آپ نے ان کو امن دیا انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ آپ نے مدینہ کے یہودیوں کو جلا وطن کردیا۔ ان بنی قینقاع جو کہ عبداللہ بن سلام کی قوم کے لوگ تھے اور بنی حارثہ کے یہود تھے اور ہر یہودی جو مدینہ میں تھا اس کو جلا وطن کردیا۔