(١٨٠٢٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا أَقْبَلَ بِالأُسَارَی حَتَّی إِذَا کَانَ بِعَرْقِ الظُّبْیَۃِ أَمَرَ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِی الأَقْلَحِ أَنْ یَضْرِبَ عُنُقَ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ فَجَعَلَ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ یَقُولُ : یَا وَیْلاَہُ عَلاَمَ أُقْتَلُ مِنْ بَیْنَ ہَؤُلاَئِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: لِعَدَاوَتِکَ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ۔ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ مَنُّکَ أَفْضَلُ فَاجْعَلْنِی کَرَجُلٍ مِنْ قَوْمِی إِنْ قَتَلْتَہُمْ قَتَلْتَنِی وَإِنْ مَنَنْتَ عَلَیْہِمْ مَنَنْتَ عَلَیَّ وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْہُمُ الْفِدَائَ کُنْتُ کَأَحَدِہِمْ یَا مُحَمَّدُ مَنْ لِلصِّبْیَۃِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : النَّارُ یَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ قَدِّمْہُ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ ۔ فَقَدَّمَہُ فَضَرَبَ عُنُقَہُ ۔ [ضعیف جدًا ]
(١٨٠٢٦) محمد بن یحییٰ بن سہل بن ابی حثمہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ عرق ظبیہ نامی جگہ پر جب رسول اللہ کے پاس قیدی لائے گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عاصم بن ثابت بن ابی افلح کو حکم دیا وہ عقبہ بن ابی معیط کی گردن جدا کردیں۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا : ان کے درمیان سے مجھے کیوں قتل کیا جا رہا ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : اللہ اور رسول کی دشمنی کی وجہ سے تو عقبہ نے کہا : اے محمد ! آپ مجھے میری قوم کے آدمیوں میں شمار کرتے ہوئے ان جیسا سلوک کریں۔ اگر ان کو قتل یا احسان کریں تو میرے ساتھ بھی یہ سلوک کرلینا۔ اے احمد ! بچوں کا کون ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے لیے آگ ہے۔ اے عاصم بن عون ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو تو انھوں نے اس کا سر قلم کردیا۔