(١٨٠٣٧) وَأَمَّا الْمُفَادَاۃُ بِالنَّفْسِ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ بْنِ وَاقِدٍ الْکِلاَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتْ ثَقِیفُ حُلَفَائَ لِبَنِی عُقَیْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِیفُ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً وَأَصَابُوا مَعَہُ الْعَضْبَائَ فَأَتَی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ فِی الْوَثَاقِ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَأَتَاہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ ۔ فَقَالَ : بِمَ أَخَذْتَنِی وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَ الْحَاجِّ ؟ فَقَالَ إِعْظَامًا لِذَاکَ : أُخِذْتَ بِجَرِیرَۃِ حُلَفَائِکَ ثَقِیفَ ۔ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ فَنَادَاہُ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ ۔ قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَحِیمًا رَقِیقًا فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : إِنِّی مُسْلِمٌ۔ قَالَ : لَوْ قُلْتَہَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَکَ أَفْلَحْتَ کُلَّ الفَلاَحِ ۔ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ فَنَادَاہُ یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ ۔ فَأَتَاہُ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : إِنِّی جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِی وَظَمْآنُ فَاسْقِنِی قَالَ : ہَذِہِ حَاجَتُکَ ۔ قَالَ : فَفُدِیَ بِالرَّجُلَیْنِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٤]
(١٨٠٣٧) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ثقیف بنو عقیل کے حلیف تھے تو بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا اور صحابہ کرام (رض) نے بنو عقیل کے آدمی کو قید کرلیا اور جکڑ دیا۔ اسی حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! آپ اس کے پاس آئے اور پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا : آپ نے مجھے کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا ہے ؟ اور کیوں کر حج کرنے والوں کو گرفتار کرتے ہو ؟ آپ نے فرمایا : یہ بڑی بات ہے تو اپنے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی وجہ سے پکڑا گیا ہے۔ پھر آپ چلے گئے۔ اس نے آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! آپ رحیم رقیق القلب تھے، واپس آئے۔ آپ نے پوچھا : تیری کیا حالت ہے ؟ اس نے کہا : میں مسلمان ہوں۔ آپ نے فرمایا : یہ بات تو تب کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو مکمل فلاح پا لیتا۔ آپ پھر چلے۔ اس نے آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! پھر آپ اس کے پاس آئے اور پوچھا : تیری کیا حالت ہے ؟ اس نے کہا : میں بھوکا ہوں، کھانا کھلاؤ، پیاسا ہوں پانی پلاؤ ! فرمایا : یہ تیری ضرورت ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ دو صحابہ کے عوض اس کو چھوڑا گیا۔