hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18045

.

سنن البيهقي

18045
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٠٣٩) وَأَمَّا الْمُفَادَاۃُ بِالْمَالِ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِی زُمَیْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَکَانَ أَکْثَرُ حَدِیثِہِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ قَالَ : مَا تَرَوْنَ فِی ہَؤُلاَئِ الأُسَارَی ؟ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیرَۃِ وَالإِخْوَانِ غَیْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْہُمُ الْفِدَائَ لِیَکُونَ لَنَا قُوَّۃً عَلَی الْمُشْرِکِینَ وَعَسَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَہْدِیَہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ وَیَکُونُوا لَنَا عَضُدًا۔ قَالَ : فَمَاذَا تَرَی یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ ۔ قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا أَرَی الَّذِی رَأَی أَبُو بَکْرٍ وَلَکِنْ ہَؤُلاَئِ أَئِمَّۃُ الْکُفْرِ وَصَنَادِیدُہُمْ فَقَرِّبْہُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَہُمْ قَالَ فَہَوِیَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ أَنَا فَأَخَذَ مِنْہُمُ الْفِدَائَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِذَا ہُوَ وَأَبُو بَکْرٍ قَاعِدَانِ یَبْکِیَانِ فَقُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَخْبِرْنِی مِنْ أَیْ شَیْئٍ تَبْکِی أَنْتَ وَصَاحِبُکَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُ وَإِلاَّ تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا قَالَ : الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَدْنَی مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ۔ وَشَجَرَۃٌ قَرِیبَۃٌ حِینَئِذٍ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللَّہُ یُرِیدُ الآخِرَۃَ } [الانفال ٦٧] الآیَۃَ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ زَادَ إِلَی قَوْلِہِ { فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَیِّبًا } [الانفال ٦٩] فَأَحَلَّ اللَّہُ الْغَنِیمَۃَ لَہُمْ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْقَسْمِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٦٣]
(١٨٠٣٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں (ان کی اکثر احادیث حضرت عمر (رض) سے ہیں) : جب بدر کا دن تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہارا ان قیدیوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) فرمانے لگے : اے اللہ کے نبی ! یہ ہمارے چچا کے بیٹے، خاندان کے لوگ اور ہمارے بھائی ہیں، اگر ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور مشرکین کے خلاف مالی قوت بھی حاصل ہوجائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابن خطاب ! تیرا کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی میری رائے ابوبکر والی نہیں ہے بلکہ یہ کفر کے سردار ہیں ان کے سر تن سے جدا کر دو لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کی رائے کو قبول فرمایا، میری رائے قبول نہ کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا، دیکھتا ہوں کہ ابوبکر (رض) اور آپ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے بتائیں آپ اور ابوبکر کو کس چیز نے رونے پر مجبور کردیا ؟ اگر رونے کی وجہ ہو تو میں بھی رو لوں یا پھر تم دونوں کے رونے کی وجہ سے رو لوں۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات نے آپ کے ساتھیوں کو میرے سامنے پیش کیا اور اس درخت سے قریب تر اللہ کا عذاب پیش کیا گیا تو اللہ نے قرآن نازل فرمایا : { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ } [الانفال ٦٧] ” کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ خون بہالے۔ تم دنیا کا ارادہ کرتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتا ہے۔ “ (ب) عکرمہ بن عمارہ نے کچھ اضافہ فرمایا ہے : { فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا } [الانفال ٦٧] ” اللہ نے غنیمتیں ان کے لیے حلال قرار دیں۔ “