(١٨٠٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ وَحُمَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَیْنَۃَ قَدِمُوا َلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَدِینَۃَ فَاجْتَوَوْہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَی إِبِلِ الصَّدَقَۃِ فَتَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِہَا وَأَبْوَالِہَا ۔ فَفَعَلُوا فَصَحُّوا ثُمَّ مَالُوا عَلَی الرِّعَائِ فَقَتَلُوہُمْ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَعَثَ فِی إِثْرِہِمْ فَأُتِیَ بِہِمْ فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ وَتَرَکَہُمْ فِی الْحَرَّۃِ حَتَّی مَاتُوا۔
لَفْظُ حَدِیثِ ہُشَیْمٍ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الْوَہَّابِ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ لاَ أَحْفَظُ : اشْرَبُوا أَبْوَالَہَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٠٤٨) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کے لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ انھیں آب و ہوا موافق نہ آئی تو رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو صدقہ کے اونٹوں کے دودھ اور پیشاب پیو۔ انھوں نے ایسا کیا تو تندرست ہوگئے۔ پھر انھوں نے چرواہوں کو قتل کیا اور مرتد ہوگئے اور رسول اللہ کے اونٹ بھی لے گئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پتہ چلا تو ان کا پیچھا کیا، جب پکڑ کر ان کو لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ہاتھ، پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھروا دیں اور ان کو پتھریلی زمین میں پھینک دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
(ب) عبدالوہاب حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ تم ان کے پیشاب پیو کا ذکر ہے یا نہیں۔