(١٨٠٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوعَمْرٍو الْحِیرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُویَعْلَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : مَرَّ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِفِتْیَانٍ مِنْ قُرَیْشٍ وَقَدْ نَصَبُوا طَیْرًا وَہُمْ یَرْمُونَہُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّیْرِ کُلَّ خَاطِئَۃٍ مِنْ نَبْلِہِمْ فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : مَنْ فَعَلَ ہَذَا لَعَنَ اللَّہُ مَنْ فَعَلَ ہَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَیْئًا فِیہِ الرُّوحُ غَرَضًا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٠٥٨) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا گزر قریشی بچوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک پرندے کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے تھے لیکن تمام کے نشانے خطا تھے۔ جب انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو دیکھا تو بکھر گئے تو ابن عمر (رض) نے پوچھا : یہ کس نے کیا ؟ اللہ اس پر لعنت فرمائے جس نے کیا؛ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذی روح چیز پر نشانے بازی کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔