(١٨٠٦٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ تِعْلَی عَنْ أَبِی أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَدْرَبْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَہُوَ أَمِیرُ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ عَلَی الدُّرُوبِ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلَنَا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ فَأَقَمْنَا بِہِ قَالَ وَکَانَ أَبُو أَیُّوبَ قَدِ اتَّخَذَ مَسْجِدًا فَکُنَّا نَرُوحُ وَنَجْلِسُ إِلَیْہِ وَیُصَلِّی لَنَا وَنَسْتَمْتِعُ مِنْ حَدِیثِہِ قَالَ فَوَاللَّہِ إِنَّا لَعَشِیَّۃً مَعَہُ إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ أُتِیَ الآنَ الأَمِیرُ بِأَرْبَعَۃِ أَعْلاَجٍ مِنَ الرُّومِ فَأَمَرَ بِہِمْ أَنْ یُصْبَرُوا فَرُمُوا بِالنَّبْلِ حَتَّی قُتِلُوا فَقَامَ أَبُو أَیُّوبَ فَزِعًا حَتَّی جَائَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدٍ فَقَالَ أَصَبَرْتَہُمْ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَنْہَی عَنْ صَبْرِ الدَّابَّۃِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِی کَذَا وَکَذَا وَإِنِّی صَبَرْتُ دَجَاجَۃً قَالَ فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ بِغِلْمَانٍ لَہُ أَرْبَعَۃٍ فَأَعْتَقَہُمْ مَکَانَہُمْ ۔ قَالَ أَبُو زُرْعَۃَ عُبَیْدُ بْنُ تِعْلَی مِنْ أَہْلِ فِلَسْطِینِ مَنْزِلُہُ عَسْقَلاَنُ ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرٍ ۔ [صحیح لغیرہ۔ بدون القصۃ ]
(١٨٠٦٠) حضرت ابو ایوب (رض) فرماتے ہیں : ہم نے عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے ساتھ ایک جنگ لڑی۔ ہم نے رومی سرزمین پر پڑاؤ کیا۔ کہتے ہیں کہ ابو ایوب نے ایک مسجد بنائی۔ ہم شام کے وقت جا کر ان کی مجلس میں بیٹھ کر ان کی باتوں سے فائدہ حاصل کرتے، کہتے ہیں : ایک شام میں ان کے ساتھ تھا کہ ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کہ امیر المؤمنین کے پاس چار گاؤخر لائے گئے تو انھوں نے انھیں باندھنے کا حکم دیا اور تیر اندازی کر کے انھیں ہلاک کردیا گیا تو ابو ایوب گھبرا کر کھڑے ہوئے اور عبدالرحمن بن خالد کے پاس آئے اور فرمانے لگے : آپ نے ان کو باندھا تھا ؟ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے چوپائے کو باندھنے سے منع فرمایا تھا۔ میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے یہ یہ ہو اگرچہ میں ایک مرغی ہی کو کیوں نہ باندھو تو عبدالرحمن بن خالد نے ان کی جگہ اپنے چار غلام آزاد کروا دیے۔ ابو زرعہ عبید بن یعلیٰ فرماتے ہیں کہ وہ فلسطین کے تھے ان کا گھر عسقلان میں تھا۔