hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18071

.

سنن البيهقي

18071
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٠٦٥) وَرَوَاہُ مُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِیُّ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَۃَ الأَسْلَمِیُّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمَّرَہُ عَلَی سَرِیَّۃٍ قَالَ فَخَرَجْتُ فِیہَا وَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا فَأَحْرِقُوہُ بِالنَّارِ فَوَلَّیْتُ فَنَادَانِی فَرَجَعْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا فَاقْتُلُوہُ وَلاَ تُحَرِّقُوہُ فَإِنَّہُ لاَ یُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّ النَّارِ ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ حَیْثُ أَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُحَرِّقَ عَلَی أُبْنَی وَمَا رُوِیَ فِی نَصْبِ الْمَنْجَنِیقِ عَلَی الطَّائِفِ فَغَیْرُ مُخَالِفٍ لِمَا قُلْنَا إِنَّمَا ہُوَ فِی قِتَالِ الْمُشْرِکِینَ مَا کَانُوا مُمْتَنِعِینَ وَمَا رُوِیَ مِنَ النَّہْیِ فِی الْمُشْرِکِینَ إِذَا کَانُوا مَأْسُورِینَ وَشَبَّہَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِرَمْیِ الصَّیْدِ مَا دَامَ عَلَی الاِمْتِنَاعِ ثُمَّ النَّہْیِ عَنْ رَمْیِ الدَّجَاجَۃِ الَّتِی لَیْسَتَ بِمُمْتَنِعَۃٍ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٠٦٥) محمد بن حمزہ اسلمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک لشکر کا امیر بنایا۔ کہتے ہیں : میں اس لشکر میں گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم فلاں کو پالو تو آگ سے جلا دینا۔ میں جانے لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی۔ میں آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم فلاں کو پالو تو قتل کردینا جلانا نہ، کیونکہ آگ کا عذاب اس کا رب ہی دے سکتا ہے۔
(ب) اسامہ بن زید کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے گھروں سمیت جلانے کا حکم دیا اور طائف پر منجنیق کا نصب کرنا ہمارے قول کے مخالف نہیں ہے۔ وہ صرف مشرکین سے قتال کے بارے میں ہے، جب وہ رکنے والے نہ ہوں اور مشرکین کو جلانے کی نفی اس وقت ہے جب وہ قیدی ہوں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ شکار کو باندھ کر نہ مارا جائے۔ پھر مرغی کو تیر مارنے کی ممانعت ہے جو باندھی نہ بھی گئی ہو۔