(١٨٠٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ النَّضْرِ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الزُّبَیْرُ بْنُ الْخِرِّیتِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : نَزَلَتْ {إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٥] قَالَ : فُرِضَ عَلَیْہِمْ أَنْ لاَ یَفِرَّ رَجُلٌ مِنْ عَشَرَۃٍ وَلاَ قَوْمٌ مِنْ عَشْرِ أَمْثَالِہِمْ فَجَہَدَ ذَلِکَ النَّاسَ وَشَقَّ عَلَیْہِمْ فَنَزَلَتْ { الآنَ خَفَّفَ اللَّہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِیکُمْ ضَعْفًا فَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٦] قَالَ : فَأُمِرُوا أَنْ لاَ یَفِرَّ رَجُلٌ مِنْ رَجُلَیْنٍ وَلاَ قَوْمٌ مِنْ مِثْلَیْہِمْ ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَنَقَصَ مِنَ النَّصْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ مِنَ الْعِدَّۃِ ۔
ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ عَفَّانَ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ : فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ حِینَ فُرِضَ أَنْ لاَ یَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَۃٍ فَجَائَ التَّخْفِیفُ فَقَالَ { الآنَ خَفَّفَ اللَّہُ عَنْکُمْ } [الأنفال ٦٦] الآیَۃَ فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّہُ عَنْہُمْ مِنَ الْعِدَّۃِ نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْہُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ السُّلَمِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤٦٥٣]
(١٨٠٨٠) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : { اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٥] ” اگر تمہارے بیس افراد صبر کرنے والے ہوں تو دو سو افراد پر غالب آئیں گے۔ “ فرماتے ہیں کہ ان پر فرض قرار دے دیا گیا کہ ایک شخص دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور نہ کوئی قوم ان جیسے افراد سے بھاگے۔ یہ لوگوں پر شاق گزرا تو یہ آیت نازل ہوئی : { اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٦] ” اب اللہ نے تم سے تخفیف فرما دی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تمہارے اندر کمزوری ہے۔ اگر تمہارے سو افراد ہوں گے تو وہ دو سو افراد پر غالب آجائیں گے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص دو کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور کوئی قوم اپنی سے دگنی تعداد کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار نہ کرے۔
عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : اتنی مدد میں کمی ہے جتنی تعداد میں چھوڑ دے دی گئی۔
(ب) عبداللہ بن مبارک کی روایت میں ہے کہ مسلمانوں پر شاق گزرا جب یہ مقرر کردیا گیا کہ ایک دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے تو تخفیف کا حکم آگیا، فرمایا : { اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ } ” اب اللہ نے تمہارے لیے تخفیف فرما دی ہے صبر میں کمی کی مقدار کے مطابق۔ “