hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18113

.

سنن البيهقي

18113
Sunan Al Bayhaqi
(١٨١٠٧) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - امْرَأَۃً مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ إِلاَّ امْرَأَۃً وَاحِدَۃً وَاللَّہِ إِنَّہَا لَعِنْدِی تَضْحَکُ ظَہْرًا لِبَطْنٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَیَقْتُلُ رِجَالَہُمْ بِالسُّوقِ إِذْ ہَتَفَ ہَاتِفٌ بِاسْمِہَا أَیْنَ فُلاَنَۃُ ؟ فَقَالَتْ : أَنَا وَاللَّہِ ۔ فَقُلْتُ : وَیْلَکِ مَا لَکِ ؟ فَقَالَتْ : أُقْتَلُ وَاللَّہِ ؟ قُلْتُ : وَلِمَ ؟ قَالَتْ : لِحَدَثٍ أَحْدَثْتُہُ فَانْطُلِقَ بِہَا فَضُرِبَتْ عُنُقُہَا فَمَا أَنْسَی عَجَبًا مِنْہَا طِیبَۃَ نَفْسِہَا وَکَثْرَۃَ ضَحِکِہَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّہَا تُقْتَلُ ۔ ذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ عَنْ أَصْحَابِہِ أَنَّہَا کَانَتْ دَلَّتْ عَلَی مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَۃَ دَلَّتْ عَلَیْہِ رَحًا فَقَتَلَتْہُ فَقُتِلَتْ بِذَلِکَ قَالَ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ أَسْلَمَتْ وَارْتَدَّتْ وَلَحِقَتْ بِقَوْمِہَا فَقَتَلَہَا لِذَلِکَ وَیُحْتَمَلُ غَیْرُ ذَلِکَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلَمْ یَصِحَّ الْخَبَرُ لأَیِّ مَعْنًی قَتَلَہَا وَقَدْ قِیلَ إِنَّ مَحْمُودَ بْنَ مَسْلَمَۃَ قُتِلَ بِخَیْبَرَ وَلَمْ یُقْتَلْ یَوْمَ بَنِی قُرَیْظَۃَ ۔ [حسن ]
(١٨١٠٧) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قریظہ کی صرف ایک عورت قتل کی۔ اللہ کی قسم ! وہ میرے پاس خوب ہنس رہی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے۔ اچانک آواز دینے والے نے اس کا نام لے کر آواز دی : فلاں عورت کہاں ہے ؟ اس نے کہا : میں ہوں۔ میں نے کہا : تجھے کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں قتل کردی جاؤں گی۔ میں نے پوچھا : کیوں ؟ اس نے کہا : ایسے کام کی وجہ سے جس کا میں سبب بنی، اس کو لے جا کر گردن اتار دی گئی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : میں اس عجیب واقعہ کو نہیں بھولی کہ وہ اتنی خوش اور ہنس رہی تھی حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ قتل کردی جائے گی۔ (ب) ابو عبدالرحمن بغدادی اپنے صحابہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ ایسی عورت تھی جس نے محمود بن مسلمہ پر چکی گرا کر قتل کردیا تھا جس کے عوض اس کو قتل کیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اسلام لانے کے بعد مرتد ہو کر اپنی قوم سے جا ملی، اس وجہ سے قتل کیا گیا اس کے علاوہ بھی احتمال ہیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔