(١٨١٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَعَلَّ أَمْرَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَنْ یَکُفُّوا عَنْ أَنْ یَقْطَعُوا شَجَرًا مُثْمِرًا إِنَّمَا ہُوَ لأَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُخْبِرُ أَنَّ بِلاَدَ الشَّامِ تُفْتَحُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَلَمَّا کَانَ مُبَاحًا لَہُ أَنْ یَقْطَعَ وَیَتْرُکَ اخْتَارَ التَّرْکَ نَظَرًا لِلْمُسْلِمِینَ لاَ لأَنَّہُ رَآہُ مُحَرَّمًا لأَنَّہُ قَدْ حَضَرَ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَحْرِیقَہُ بِالنَّضِیرِ وَخَیْبَرَ وَالطَّائِفِ ۔ [صحیح ]
(١٨١٢٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے پھل دار درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا، کیونکہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا کہ شام کے شہر مسلمان فتح کریں گے۔ پھل دار درخت کو کاٹنا اور چھوڑ دینا دونوں طرح جائز ہے تو انھوں نے مسلمانوں کی وجہ سے چھوڑ دینے کو اختیار کیا اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس کو حرام خیال کرتے تھے۔ کیونکہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب بنو نضیر، خیبر اور طائف کے پھل دار درختوں کو جلایا گیا۔