hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18163

.

سنن البيهقي

18163
Sunan Al Bayhaqi
(١٨١٥٧) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنِی الْمُغِیَرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی الْمُرَقِّعُ بْنُ صَیْفِیٍّ عَنْ جَدِّہِ رِیَاحِ بْنِ الرَّبِیعِ أَخِی حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ عَلَی مُقَدِّمَتِہِ فَمَرَّ رِیَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی امْرَأَۃٍ مَقْتُولَۃٍ مِمَّا أَصَابَتْہُ الْمُقَدِّمَۃُ فَوَقَفُوا یَنْظُرُونَ إِلَیْہَا وَیَعْجَبُونَ مِنْ خَلْقِہَا حَتَّی لَحِقَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی نَاقَۃٍ لَہُ قَالَ فَفَرَجُوا عَنِ الْمَرْأَۃِ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہَا ثُمَّ قَالَ : ہَاہْ مَا کَانَتْ ہَذِہِ تُقَاتِلُ ۔ قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ فَقَالَ لأَحَدِہِمْ : الْحَقْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فَلاَ یَقْتُلَنَّ ذُرِّیَّۃً وَلاَ عَسِیفًا۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ : رَبَاحُ بْنُ الرَّبِیعِ أَصَحُّ وَمَنْ قَالَ رِیَاحٌ فَہُوَ وَہَمٌ وَکَذَا قَالَ أَبُو عِیسَی۔ [حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٤]
(١٨١٥٧) مرقع بن صیفی اپنے دادا ریاح بن ربیع سے جو حنظلہ کاتب کے بھائی ہیں نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی غزوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا اور خالد بن ولید لشکر کے مقدمہ پر مقرر تھے۔ رباح اور صحابہ ایک مقتولہ عورت کے پاس سے گزرے جس کو مقدمہ کے لشکر نے قتل کردیا تھا۔ وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے اور اس کی شکل و صورت پر تعجب کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی اونٹنی پر آگئے۔ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ عورت کے قریب سے ہٹ گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس کھڑے ہوگئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ لڑائی کرتی تھی ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے چہرے دیکھے اور کسی کو حکم دیا کہ جاؤ خالد بن ولید سے کہہ کر آؤ کہ وہ کسی بچے اور غلام کو قتل نہ کریں۔