(١٨١٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو وَکِیعٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ وَہُوَ مَصْرُوعٌ فَضَرَبْتُہُ بِسَیْفِی فَمَا صَنَعَ شَیْئًا وَنَدَرَ سَیْفُہُ فَضَرَبْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی یَوْمٍ حَارٍّ کَأَنَّمَا أُقَلَّ مِنَ الأَرْضِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا عَدُوُّ اللَّہِ أَبُو جَہْلٍ قَدْ قُتِلَ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : آللَّہِ لَقَدْ قُتِلَ ۔ قُلْتُ : آللَّہِ لَقَدْ قُتِلَ ۔
قَالَ : فَانْطَلِقْ بِنَا فَأَرِنَاہُ ۔ فَجَائَ فَنَظَرَ إِلَیْہِ فَقَالَ : ہَذَا کَانَ فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ ۔
کَذَا قَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ۔ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ ۔
[ضعیف۔ تقدم برقم ١٨٠١٣-١٨٠١٤]
(١٨١٦٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن میں ابو جہل تک پہنچا۔ وہ گرا ہوا تھا، میں نے اسے اپنی تلوار ماری۔ اس نے کچھ بھی نہ کیا۔ اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اسے مارا۔ پھر میں ایک گرم دن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ اللہ کا دشمن ابو جہل قتل کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! قتل کردیا گیا ؟ میں نے کہا : ہاں اللہ کی قسم وہ قتل کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو ہمیں دکھاؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آ کر دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون تھا۔