(١٨١٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِالْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ جُبَیْرٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ الْغِفَارِیِّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَرْسَلَ إِلَیْہَا زَوْجُہَا أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِیعِ أَنْ خُذِی لِی أَمَانًا مِنْ أَبِیکِ فَخَرَجَتْ فَأَطْلَعَتْ رَأْسَہَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِہَا وَالنَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ یُصَلِّی بِالنَّاسِ فَقَالَتْ : أَیُّہَا النَّاسُ أَنَا زَیْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِنِّی قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الصَّلاَۃِ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی لَمْ أَعْلَمْ بِہَذَا حَتَّی سَمِعْتُمُوہُ أَلاَ وَإِنَّہُ یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَدْنَاہُمْ ۔ [صحیح۔ بدون القصۃ ]
(١٨١٧٧) حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ زینب بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے خاوند ابو العاص بن ربیع نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پناہ لینے کے لیے بھیجا۔ وہ چلی تو ان کا سر حجرہ سے باہر نظر آ رہا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ فرمانے لگیں میں زینب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی ہوں میں نے ابو العاص کو پناہ دی ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میں بھی اس کے بارہ میں جانتا نہ تھا جو تم نے سنا خبردار مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ دے سکتا ہے۔