hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18188

.

سنن البيهقي

18188
Sunan Al Bayhaqi
(١٨١٨٢) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ لَفْظًا وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ وَزِیَادُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَائِ الأَمْصَارِ یُقَاتِلُونَ الْمُشْرِکِینَ قَالَ فَبَیْنَمَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَذَلِکَ إِذْ أُتِیَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِنْ أَہْلِ الأَہْوَازِ قَدْ أُسِرَ فَلَمَّا أُتِیَ بِہِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِلْہُرْمُزَانِ : أَیَسُرُّکَ أَنْ لاَ تُقْتَلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَمَا ہُوَ ۔ قَالَ : إِذَا قَرَّبُوکَ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَکَلَّمَکَ فَقُلْ إِنِّی أَفْرَقُ أَنْ أُکَلِّمَکَ فَإِنْ أَرَادَ قَتْلَکَ فَقُلْ إِنِّی فِی أَمَانٍ إِنَّکَ قُلْتَ لاَ تَفْرَقْ قَالَ فَحَفِظَہَا الرَّجُلُ فَلَمَّا أُتِیَ بِہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لَہُ فِی بَعْضِ مَا یُسَائِلُہُ عَنْہُ إِنِّی أَفْرَقُ یَعْنِی فَقَالَ لاَ تَفْرَقْ قَالَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ کَلاَمِہِ سَائَ لَہُ عَمَّا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ قَالَ لَہُ إِنِّی قَاتِلُکَ قَالَ فَقَالَ قَدْ أَمَّنْتَنِی فَقَالَ : وَیْحَکَ مَا أَمَّنْتُکَ ؟ قَالَ قُلْتَ : لاَ تَفْرَقْ ۔ قَالَ : صَدَقَ إِمَّا لِی فَأَسْلِمْ قَالَ نَعَمْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ ۔
(١٨١٨٢) جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو مختلف شہروں میں مشرکین سے جہاد کے لیے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس اہل اہواز میں سے کسی مشرک آدمی کو قیدی بنا کر بلایا جاتا تو بعض لوگوں نے ہرمزان سے کہا : کیا آپ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ آپ قتل نہ کریں۔ اس نے کہا : وہ کیسے ؟ کہا : جب وہ تجھے امیرالمومنین کے قریب کریں اور وہ تم سے بات کرنا چاہیں تو تم کہنا : میں تنہائی میں آپ سے بات کروں گا۔ پھر اگر وہ تجھے قتل کرنا چاہیں تو کہہ دینا : میں امان میں ہوں۔ وہ لاتفرق کہہ دیں گے۔ اس شخص نے یہ بات یاد کرلی۔ پھر جب اسے حضرت عمر (رض) کے پاس لایا گیا تو اس نے سوالات کا جواب دینے کے لیے تنہائی کا مطالبہ کردیا۔ آپ نے فرمایا : ” لاتفرق “ پھر جب اس سے گفتگو کر کے فارغ ہوئے تو انھیں گرانی محسوس ہوئی اور فرمایا : میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا : آپ نے مجھے امان دی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تیرا ناس ہو میں نے تجھے کب امان دی ؟ اس نے کہا : آپ نے ” لاتفرق “ کہا ہے۔ فرمایا : اس نے سچ کہا اور فرمایا : اب تو میرے لیے اسلام قبول کرے۔ اس نے قبول کیا۔۔۔ آگے طویل حدیث ہے۔