(١٨٢٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ الْمِصْرِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ عَنْ سَالِمٍ أَبِی الْغَیْثِ مَوْلَی ابْنِ مُطِیعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَیْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَہَبًا وَلاَ فِضَّۃً إِنَّمَا غَنِمْنَا الْمَتَاعَ وَالأَمْوَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا نَحْوَ وَادِی الْقُرَی وَمَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَبْدٌ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ رِفَاعَۃُ بْنُ بَدْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِی ضُبَیْبٍ فَبَیْنَمَا ہُوَ یَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ أَتَاہُ سَہْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَہُ فَمَاتَ فَقَالَ لَہُ النَّاسُ ہَنِیئًا لَہُ الْجَنَّۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : کَلاَّ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ الشَّمْلَۃَ الَّتِی غَلَّہَا یَوْمَ خَیْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْہَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَیْہِ نَارًا ۔ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِشِرَاکٍ أَوْ شِرَاکَیْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : شِرَاکٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَالِکٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٢٠٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خیبر گئے تو سونا، چاندی مال غنیمت میں نہ ملا بلکہ عام مال حاصل ہوا۔ پھر ہم وادی قریٰ میں آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غلام تھا، جو رفاعہ بن بدر بنو خبیب کے آدمی نے دیا تھا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ اجنبی تیر اس کو لگ گیا جس کی وجہ سے وہ فوت ہوگیا۔ لوگوں نے اسے جنت کی بشارت دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اس نے خیبر کے مال غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے ایک چادر چرائی تھی۔ وہ آگ بن کر اس پر لپٹی ہوئی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک یا دو تسمے آگ سے ہیں۔