(١٨٢١٣) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِی صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْہُ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَہُ وَاضْرِبُوہُ ۔ قَالَ : فَوَجَدْنَا فِی مَتَاعِہِ مُصْحَفًا فَسُئِلَ سَالِمٌ عَنْہُ فَقَالَ بِعْہُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِہِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ سَعِیدٍ فَہَذَا ضَعِیفٌ۔ [ضعیف ]
(١٨٢١٣) صالح بن محمد بن زائدہ فرماتے ہیں : میں روم کی سرزمین پر مسلم بن عبدالمالک کے ساتھ تھا۔ ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی۔ اس نے سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا جو حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم ایسے شخص کو پاؤ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اس کو مارو۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اس کے سامان میں قرآن مجید پایا تو سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرماتے ہیں : قرآن مجید بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو ۔