(١٨٢٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْل الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ کَہْمَسٍ عَنْ ہَارُونَ بْنِ الأَصَمِّ قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فِی جَیْشٍ فَبَعَثَ خَالِدٌ ضِرَارَ بْنَ الأَزْوَرِ فِی سَرِیَّۃٍ فِی خَیْلٍ فَأَغَارُوا عَلَی حَیٍّ مِنْ بَنِی أَسَدٍ فَأَصَابُوا امْرَأَۃً عَرُوسًا جَمِیلَۃً فَأَعْجَبَتْ ضِرَارًا فَسَأَلَہَا أَصْحَابَہُ فَأَعْطُوہَا إِیَّاہُ فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَلَمَّا قَفَلَ نَدِمَ وَسُقِطَ فِی یَدِہِ فَلَمَّا دُفِعَ إِلَی خَالِدٍ أَخْبَرَہُ بِالَّذِی فَعَلَ قَالَ خَالِدٌ فَإِنِّی قَدْ أَجَزْتُہَا لَکَ وَطَیَّبْتُہَا لَکَ قَالَ لاَ حَتَّی تَکْتُبَ بِذَلِکَ إِلَی عُمَرَ فَکَتَب عُمَرُ أَنِ ارْضَخْہُ بِالْحِجَارَۃِ فَجَائَ کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ تُوُفِّیَ فَقَالَ مَا کَانَ اللَّہُ لِیُخْزِی ضِرَارَ بْنَ الأَزْوَرِ ۔[ضعیف ]
(١٨٢٢٢) ہارون بن اصم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے خالد بن ولید کو ایک لشکر میں روانہ فرمایا اور حضرت خالد بن ولید نے ضرار بن ازور کو گھوڑ سواروں کے ساتھ بھیجا۔ انھوں نے بنو اسد پر شب خون مارا۔ انھیں ایک خوبصورت دلہن ملی۔ وہ ضرار کو اچھی لگی تو ساتھیوں کی رضامندی کے بعد ضرار اس پر واقع ہوگئے۔ جب واپس پلٹے تو شرمندہ ہوئے اور ہاتھ کو فالج ہوگیا۔ جب انھیں خالد بن ولید کے پاس لایا گیا اور جو انھوں نے کیا تھا اس کی خبر دی تو حضرت خالد کہنے لگے کہ میں اس عورت کو آپ کے لیے جائز قرار دیتا ہوں۔ فرماتے ہیں : نہیں بلکہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھو تو حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ ان کا سر پتھروں سے کچل دیا جائے۔ جب حضرت عمر (رض) کا خط آیا تو اس وقت وہ فوت ہوچکے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے ضرار بن ازور کو رسوائی سے بچا لیا۔