(١٨٢٢٦) قَالَ وَحَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ حَکِیمِ بْنِ عُمَیْرٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی عُمَیْرِ بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِیِّ وَإِلَی عُمَّالِہِ أَنْ لاَ یُقِیمُوا حَدًّا عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی أَرْضِ الْحَرْبِ حَتَّی یَخْرُجُوا إِلَی أَرْضِ الْمُصَالَحَۃِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ مَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُسْتَنْکَرٌ وَہُوَ یَعِیبُ أَنْ یَحْتَجَّ بِحَدِیثٍ غَیْرِ ثَابِتٍ وَیَقُولُ حَدَّثَنَا شَیْخٌ وَمَنْ ہَذَا الشَّیْخُ وَیَقُولُ مَکْحُولٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمَکْحُولٌ لَمْ یَرَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَوْلُہُ یَلْحَقُ بِالْمُشْرِکِینَ فَإِنْ لَحِقَ بِہِمْ فَہُوَ أَشْقَی لَہُ وَمَنْ تَرَکَ الْحَدَّ خَوْفَ أَنْ یَلْحَقَ الْمَحْدُودُ بِبِلاَدِ الْمُشْرِکِینَ تَرَکَہُ فِی سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِینَ وَمَسَالِحِہِمُ الَّتِی تَأْتَصِلْ بِبِلاَدِ الْحَرْبِ ۔[ضعیف ]
(١٨٢٢٦) حکیم بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عمیر بن سعد انصاری اور اپنے عمال کو خط لکھا کہ وہ مسلمانوں پر دار الحرب میں حد نافد نہ کریں۔ یہاں تک کہ وہ صلح والی زمین پر آجائیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) سے بیان کردہ حدیث منکر ہے۔ لہٰذا غیر ثابت شدہ حدیث سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اگر وہ مشرکین سے جا ملے تو بہت برا ہے اور جس نے حد کو صرف اس لیے چھوڑا کہ وہ مشرکین سے نہ جا ملے تو مسلمانوں کی سمندری حدوں اور ان حدود میں نافذ کرے جہاں بلاد حرب ساتھ ملے ہوئے ہیں۔