(١٨٢٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ حَاتِمٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ یَعْنِی فِی الْقِتَالِ فَکَتَبَ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ حَدَّثَنِی بِذَلِکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٢٣٤) ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے نافع کو خط لکھا کہ قتال میں دعوت دینے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ شروع اسلام میں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق پر شب خون مارا اس حال میں کہ وہ غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا اور اسی دن جویریہ بنت حارث آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی۔ یہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں اور وہ اس لشکر میں تھے۔