(١٨٢٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا الأَدِیبُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَبَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِیدٍ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنِی جَدِّی عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : أَمِنَ النَّاسُ إِلاَّ ہَؤُلاَئِ الأَرْبَعَۃَ لاَ یُؤْمَنُونَ فِی حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ ابْنُ خَطَلٍ وَمِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی سَرْحٍ وَابْنُ نُقَیْدٍ ۔ فَأَمَّا ابْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَہُ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَہُ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأُومِنَ وَکَانَ أَخَاہُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَلَمْ یُقْتَلْ وَمِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ قَتَلَہُ ابْنُ عَمٍّ لَہُ لَحا قَدْ سَمَّاہُ وَقَتَلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ابْنَ نُقَیْدٍ وَقَیْنَتَیْنِ کَانَتَا لِمِقْیَسٍ فَقُتِلَتْ إِحْدَاہُمَا وَأَفْلَتَتِ الأُخْرَی فَأَسْلَمَتْ ۔ أَبُو جَدِّہِ سَعِیدُ بْنُ یَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِیُّ قَالَہُ الْقَبَّانِیُّ
وَفِی حَدِیثِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیمَنْ أَمَرَ بِقَتْلِہِ أُمُّ سَارَۃَ مَوْلاَۃٌ لِقُرَیْشٍ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی الْمَغَازِی سَارَۃُ مَوْلاَۃٌ لِبَعْضِ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَکَانَتْ مِمَّنْ یُؤْذِیہِ بِمَکَّۃَ ۔
[ضعیف ]
(١٨٢٨٠) عثمان بن عبدالرحمن بن سعید مخزومی فرماتے ہیں کہ میرے دادا اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام لوگوں کو پناہ دی سوائے چار افراد کے۔ ان کو کسی صورت بھی امن نہ دیا جائے بلکہ قتل کیا جائے گا : 1 ابن خطل 2 مقیس بن ضبابہ 3 عبداللہ بن ابی سرح 4 ابن نقید۔ ابن خطل کو زبیر بن عوام نے قتل کیا۔ عبداللہ بن ابی سرح کے لیے حضرت عثمان نے امان حاصل کرلی۔ کیونکہ وہ ان کا رضاعی بھائی تھا اور مقیس بن ضبابہ کو ان کے چچا کے بیٹے لحا نے قتل کیا۔ ابن نقید کو حضرت علی (رض) نے قتل کیا اور مقیس کی دو گانے والیاں بھی تھیں۔ ایک قتل کردی گئی اور ایک کو چھوڑ دیا گیا وہ مسلمان ہوگئی۔
انس بن مالک کی حدیث میں ہے کہ جس کے قتل کا حکم دیا وہ ام سارہ قریش کی آزاد کردہ لونڈی تھی۔
ابن اسحاق کی روایت مغازی میں ہے کہ یہ بنو عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، جو مکہ والوں کو تکلیف دیتی تھی۔