hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18289

.

سنن البيهقي

18289
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٢٨٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی قِصَّۃِ أَبِی قُحَافَۃَ وَابْنَۃٍ لَہُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِہِ کَانَتْ تَقُودُہُ یَوْمَ الْفَتْحِ حَتَّی إِذَا ہَبَطَتْ بِہِ إِلَی الأَبْطَحِ لَقِیَتْہَا الْخَیْلُ وَفِی عُنُقِہَا طَوْقٌ لَہَا مِنْ وَرِقٍ فَاقْتَطَعَہُ إِنْسَانٌ مِنْ عُنُقِہَا فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَسْجِدَ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی جَائَ بِأَبِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی إِسْلاَمِہِ ثُمَّ قَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِیَدِ أُخْتِہِ فَقَالَ : أَنْشُدُہُمْ بِاللَّہِ وَالإِسْلاَمِ طَوْقَ أُخْتِی فَوَاللَّہِ مَا أَجَابَہُ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ الثَّانِیَۃَ فَمَا أَجَابَہُ أَحَدٌ فَقَالَ یَا أُخَیَّۃَ احْتَسِبِی طَوْقَکِ فَوَاللَّہِ إِنَّ الأَمَانَۃَ الْیَوْمَ فِی النَّاسِ لَقَلِیلٌ۔ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمْ لَمْ یَغْنَمُوا شَیْئًا وَأَنَّہَا فُتِحَتْ صُلْحًا إِذْ لَوْ فُتِحَتْ عَنْوَۃً لَکَانَتْ وَمَا مَعَہَا غَنِیمَۃً وَلَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ یَطْلُبُ طَوْقَہَا۔ [حسن ]
(١٨٢٨٣) اسماء بنت ابی بکر ابو قحافہ اور ان کے چھوٹے بچے کی بیٹی کے بارے میں فرماتی ہے کہ وہ فتح کے دن اونٹ چلا رہی تھی۔ جب وہ ابطح سے نیچے اتری تو اسے ایک شہسوار ملا، اس کے گلے چاندی کا ہار تھا۔ کسی انسان نے اس کی گردن سے کاٹ لیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو ابوبکر (رض) اپنے والد کو لے کر آئے۔ ان کے اسلام کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ پھر ابوبکر (رض) نے کھڑے ہو کر اس کی بہن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ فرمانے لگے : میں انھیں اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، یہ ہار میری بہن کا ہے۔ اللہ کی قسم ! کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر انھوں نے دوسری مرتبہ کہا، تب بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا : اے بہن صبر کرو۔ اللہ کی قسم ! آج لوگوں میں امانت داری کم ہے۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے غنیمت حاصل نہ کی، بلکہ صلح کی فتح تھی۔ اگر زبردستی فتح ہوئی تو غنیمت بھی ہوتی ان کے پاس غنیمت کا مال نہ تھا اور ابوبکر (رض) نے ہار کا مطالبہ نہ کیا۔