(١٨٢٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَأَلْتُ الشَّافِعِیَّ عَنْ أَہْلِ الدَّارِ مِنْ أَہْلِ الْحَرْبِ یَقْسِمُونَ الدَّارَ وَیَمْلِکُ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ عَلَی ذَلِکَ الْقَسْمِ وَیُسْلِمُونَ ثُمَّ یُرِیدُ بَعْضُہُمْ أَنْ یَنْقُضَ ذَلِکَ الْقَسْمَ وَیَقْسِمَہُ عَلَی قَسْمِ الأَمْوَالِ فَقَالَ لَیْسَ ذَلِکَ لَہُ فَقُلْتُ وَمَا الْحُجَّۃُ فِی ذَلِکَ قَالَ الاِسْتِدْلاَلُ بِمَعْنَی الإِجْمَاعِ وَالسُّنَّۃِ فَذَکَرَ مَا لاَ یُؤَاخَذُونَ بِہِ مِنْ قَتْلِ بَعْضِہِمْ بَعْضًا وَسَبْیِ بَعْضِہِمْ بَعْضًا وَغَصْبِ بَعْضِہِمْ بَعْضًا ثُمَّ قَالَ مَعَ أَنَّہُ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ قَالَ بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : أَیُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَہِیَ عَلَی قَسْمِ الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَیُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَکَہَا الإِسْلاَمُ لَمْ تُقْسَمْ فَہِیَ عَلَی قَسْمِ الإِسْلاَمِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَنَحْنُ نَرْوِی فِیہِ حَدِیثًا أَثْبَتَ مِنْ ہَذَا بِمِثْلِ مَعْنَاہُ ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَلَعَلَّہُ أَرَادَ مَا۔ [صحیح ]
(١٨٢٨٥) ربیع بن سلیمان کہتے ہیں : میں نے امام شافعی (رح) سے پوچھا کہ علاقہ کے لوگ بعض اہل حرب سے ہوتے ہیں وہ اپنے گھر تقسیم کرتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے مالک ہوتے ہیں۔ پھر وہ مسلمان ہوجاتے ہیں اور اس تقسیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مال تقسیم کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں : یہ ان کے لیے درست نہیں ہے۔ میں نے دلیل پوچھی تو فرمایا : جس طرح ان سے مؤاخذہ نہ کیا جائے گا کسی کے قتل، قیدی اور غصب شدہ چیز کا۔ ثور بن زید دیلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو گھر یا زمین جاہلیت میں تقسیم کردی گئی، وہ اسی تقسیم پر باقی رہے گی اور جو گھر، زمین تقسیم نہ کی گئی تو اسے اسلام کے اصولوں کے مطابق تقسیم کرلیا جائے گا۔