(١٨٢٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ رَاشِدٍ مَوْلَی حَبِیبٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی أَوْسٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قِصَّۃِ إِسْلاَمِہِ قَالَ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبَایِعُکَ عَلَی أَنْ یُغْفَرَ لِی مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِی وَلَمْ أَذَکُرْ مَا تَأَخَّرَ فَقَالَ لِی : یَا عَمْرُو بَایِعْ فَإِنَّ الإِسْلاَمَ یَجُبُّ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَإِنَّ الْہِجْرَۃَ تَجُبُّ مَا کَانَ قَبْلَہَا ۔ فَبَایَعْتُہُ ۔ [صحیح ]
(١٨٢٩٠) حضرت عمرو بن عاص (رض) اپنے اسلام کا قصہ بیان فرماتے ہیں کہ میں آگے بڑھا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس شرط پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیعت کروں گا کہ میرے پہلے گناہ معاف کردیے جائیں اور بعد والوں کا ذکر نہیں کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کہا : اے عمرو ! بیعت کرو، اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہ ختم کردیتا ہے اور ہجرت کی وجہ سے بھی پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو میں نے بیعت کرلی۔