(١٨٣٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ سَرِیَّۃً یَوْمَ حُنَیْنٍ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِکِینَ فَأَفْضَی بِہِمُ الْقَتْلُ إِلَی الذُّرِّیَّۃِ فَلَمَّا جَائُ وا قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا حَمَلَکُمْ عَلَی قَتْلِ الذُّرِّیَّۃِ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا کَانُوا أَوْلاَدَ الْمُشْرِکِینَ قَالَ : وَہَلْ خِیَارُکُمْ إِلاَّ أَوْلاَدُ الْمُشْرِکِینَ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا مِنْ نَسَمَۃٍ تُولَدُ إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتَّی یُعْرِبَ عَنْہَا لِسَانُہَا ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْہُ : ہِیَ الْفِطْرَۃُ الَّتِی فَطَرَ اللَّہُ عَلَیْہَا الْخَلْقَ فَجَعَلَہُمْ مَا لَمْ یُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ لاَ حُکْمَ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ إِنَّمَا الْحُکْمُ لَہُمْ بِآبَائِہِمْ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ١٨٠٨٩]
(١٨٣٣٤) اسود بن سریع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے دن ایک چھوٹا لشکر بھیجا، جنہوں نے مشرکین سے لڑائی کرتے ہوئے ان کے بچوں کو بھی قتل کردیا۔ جب وہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہیں بچوں کے قتل پر کس نے ابھارا ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ مشرکین کی اولاد تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مشرکین کی اولاد کیا تم سے بہتر نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے کہ ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی بات سمجھ میں آنے لگ جائے۔
امام شافعی (رح) ابو عبدالرحمن کی روایت میں فرماتے ہیں : یہ وہ فطرت ہے جس پر اللہ رب العزت نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ ان کے لیے کوئی حکم لاگو نہیں کیا جاتا جب تک فصیح کلام نہ کریں اور ان کو والدین کے تابع ہی شمار کیا جاتا ہے۔