(١٨٣٦١) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : صَالَحَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ أَہْلَ الْحِیرَۃِ وَأَہْلَ عَیْنِ التَّمْرِ قَالَ وَکَتَبَ بِذَلِکَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَجَازَہُ قَالَ یَحْیَی قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ فَأَہَلُ عَیْنِ التَّمْرِ مِثْلُ أَہْلِ الْحِیرَۃِ إِنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ عَلَیْہِمْ وَلَیْسَ عَلَی أَرْضِہِمْ شَیْئٌ قَالَ نَعَمْ ۔ [ضعیف ]
(١٨٣٦١) شعبی فرماتے ہیں کہ خالد بن ولید نے حیرہ اور اہل عین التمر سے صلح کی اور حضرت ابوبکر (رض) کو خط لکھا تو انھوں نے اجازت دے دی۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح سے کہا کہ عین التمر والے حیرہ والوں کی مثل ہیں۔ ان کے ذمہ کچھ ہوتا ہے، لیکن ان کی زمین پر کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ فرمایا : ہاں۔