(۱۸۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ ابْنُ بِنْتِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أُحِیلَتِ الصَّلاَۃُ ثَلاَثَۃَ أَحْوَالٍ ، فَذَکَرَ أَوَلاً حَالَ الْقِبْلَۃِ وَذَکَرَ آخِرًا حَالَ الْمَسْبُوقِ بِبَعْضِ الصَّلاَۃِ ، وَذَکَرَ بَیْنَ ذَلِکَ حَالَ الأَذَانِ فَقَالَ: وَکَانُوا یَجْتَمِعُونَ لِلصَّلاَۃِ یُؤْذِنُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتَّی نَقَسُوا أَوْ کَادُوا أَنْ یَنْقُسُوا ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ بَیْنَا أَنَا بَیْنَ النَّائِمِ وَالْیَقْظَانِ رَأَیْتُ شَخْصًا عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ قَامَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَقَالَ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، حَتَّی فَرَغَ مِنَ الأَذَانِ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ قَالَ فِی آخِرِ أَذَانِہِ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، ثُمَّ أَمْہَلَ شَیْئًا ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ الَّذِی قَالَ غَیْرَ أَنَّہُ زَادَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلِّمْہَا بِلاَلاً))۔ فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِہَا بِلاَلٌ ، وَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ طَافَ بِی مِثْلَ الَّذِی أَطَافَ بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ غَیْرَ أَنَّہُ سَبَقَنِی إِلَیْکَ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَسْعُودِیِّ۔ (ج) غَیْرَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی لَیْلَی لَمْ یُدْرِکْ مُعَاذًا فَہُوَ مُرْسَلٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۰۷]
(١٨٣٨) سیدنا معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ نماز کی تین حالتیں ہیں : پہلی قبلے کی حالت ، دوسری مسبوق کی نماز اور تیسری اذان کی حالت کے درمیان۔ پھر فرمایا : لوگ نماز کے لیے جمع ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو اطلاع دے دیتے تھے، پھر انھوں نے ناقوس بنایا یا فرمایا : قریب تھا کہ وہ ناقوس بناتے، پھر ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن زید تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ہلکی نیند میں تھا، میں نے ایک شخص کو دیکھا جس پر دو سبز کپڑے تھے وہ کھڑا ہوا اور قبلے کی طرف منہ کیا اور کہا : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ۔۔۔ یہاں تک کہ دو دو مرتبہ اذان سے فارغ ہوگیا، پھر اذان کے آخر میں کہا : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ پھر کچھ دیر رکا رہا، پھر کھڑا ہوا اور اس کی مثل کہا لیکن۔ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ۔ اضافہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بلال (رض) کو سکھا دے، جس نے سب سے پہلے اذان دی وہ سیدنا بلال (رض) تھے، پھر سیدنا عمربن خطاب (رض) آئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس بھی ایک شخص نے چکر لگایا جس طرح عبداللہ بن زید (رض) کے پاس چکر لگایا تھا مگر وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔