(١٨٣٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْفَزَارِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِی ثَوْرٌ قَالَ حَدَّثَنِی سَالِمٌ مَوْلَی ابْنِ مُطِیعٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : افْتَتَحْنَا خَیْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَہَبًا وَلاَ فِضَّۃَ إِنَّمَا غَنَمِنَا الإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی وَادِی الْقُرَی وَمَعَہُ عَبْدٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ مِدْعَمٌ وَہَبَہُ لَہُ أَحَدُ بَنِی الضِّبَابِ فَبَیْنَمَا ہُوَ یَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ جَائَ ہُ سَہْمٌ عَائِرٌ حَتَّی أَصَابَ ذَلِکَ الْعَبْدَ فَقَالَ النَّاسُ ہَنِیئًا لَہُ الشَّہَادَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : بَلْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ الشَّمْلَۃَ الَّتِی أَصَابَہَا یَوْمَ خَیْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْہَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَیْہِ نَارًا ۔ فَجَائَ رَجْلٌ حِینَ سَمِعَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِشِرَاکٍ أَوْ بِشِرَاکَیْنِ فَقَالَ ہَذَا شَیْئٌ کُنْتُ أَصَبْتُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : شِرَاکٌ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٣٨٦) سالم بن مطیع نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو مال غنیمت میں سونا چاندی حاصل نہ ہوا بلکہ اونٹ، گائے، سامان اور باغ ملے۔ پھر ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سناتھ وادی قریٰ میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غلام تھا جس کو مدعم کہا جاتا تھا، یہ بنو ضباب کے ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہبہ کیا تھا۔ ایک مرتبہ مدعم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ اچانک اس کو نامعلوم جانب سے آنے ولا تیر لگا جس سے وہ مرگیا۔ لوگوں نے کہا : مبارک ہو یہ شخص جنتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بیشک وہ چادر جس کو اس نے جنگ خیبر کے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اٹھایا تھا وہ اس پر آگ بن کر لپٹی ہوئی ہے۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک یا دو تسمے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا۔ اس نے کہا : یہ مجھے ملے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں۔