(١٨٣٩٢) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ یَقُولُ : أَصَابَ النَّاسُ فَتْحًا بِالشَّامِ فِیہِمْ بِلاَلٌ وَأَظُنُّہُ ذَکَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَکَتَبُوا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ ہَذَا الْفَیْئَ الَّذِی أَصَبْنَا لَکَ خُمُسُہُ وَلَنَا مَا بَقِیَ لَیْسَ لأَحَدٍ مِنْہُ شَیْئٌ کَمَا صَنَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِخَیْبَرَ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَا قُلْتُمْ وَلَکِنِّی أَقِفُہَا لِلْمُسْلِمِینَ فَرَاجَعُوہُ الْکِتَابَ وَرَاجَعَہُمْ یَأْبَوْنَ وَیَأْبَی فَلَمَّا أَبَوْا قَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَا عَلَیْہِمْ فَقَالَ اللَّہُمَّ اکْفِنِی بِلاَلاً وَأَصْحَابَ بِلاَلٍ قَالَ فَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَیْہِمْ حَتَّی مَاتُوا جَمِیعًا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَوْلُہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَا قُلْتُمْ لَیْسَ یُرِیدُ بِہِ إِنْکَارَ مَا احْتَجُّوا بِہِ مِنْ قِسْمَۃِ خَیْبَرَ فَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَیُشْبِہُ أَنْ یُرِیدَ بِہِ لَیْسَتِ الْمَصْلَحَۃُ فِیمَا قُلْتُمْ وَإِنَّمَا الْمَصْلَحَۃُ فِی أَنْ أَقِفَہَا لِلْمُسْلِمِینَ وَجَعَلَ یَأْبَی قِسْمَتَہَا لِمَا کَانَ یَرْجُو مِنْ تَطْیِیبِہِمْ ذَلِکَ لَہُ وَجَعَلُوا یَأْبَوْنَ لِمَا کَانَ لَہُمْ مِنَ الْحَقِّ فَلَمَّا أَبَوْا لَمْ یُبْرِمْ عَلَیْہِمُ الْحُکْمَ بِإِخْرَاجِہَا مِنْ أَیْدِیہِمْ وَوَقْفِہَا وَلَکِنْ دَعَا عَلَیْہِمْ حَیْثُ خَالَفُوہُ فِیمَا رَأَی مِنَ الْمَصْلَحَۃِ وَہُمْ لَوْ وَافَقُوہُ وَافَقَہُ أَفْنَائُ النَّاسِ وَأَتْبَاعُہُمْ
وَالْحَدِیثُ مُرْسَلٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ
وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْقَسْمِ فِی فَتْحِ مِصْرَ أَنَّہُ رَأَی ذَلِکَ وَرَأَی الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قِسْمَتَہَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ ۔ [ضعیف ]
(١٨٣٩٢) جریر بن حازم کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کو شام کی فتح نصیب ہوئی۔ جن میں بلال بھی تھے، میرا گمان ہے کہ انھوں نے معاذ بن جبل کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھا کہ مال فیٔ میں سے پانچواں حصہ آپ کا اور باقی ہمارا ہے، کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے موقع پر کیا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب دیا : تمہاری بات درست نہیں بلکہ میں اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے تقسیم کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہ اس کی امید کیے بیٹھے تھے اور انھوں نے بھی واپس کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔ جب انھوں نے انکار کردیا تو ان پر ان کے ہاتھوں خراج لینے کا حکم باقی رہے گا اور اس زمین کو وقف سمجھا جائے گا۔ لیکن حضرت عمر (رض) نے ان کے خلاف بددعا کی، جب انھوں نے حضرت عمر (رض) سے مصلحت کی مخالفت کی۔ اگر وہ ان کی موافقت کرتے تو غیر معروف لوگ اور ان کے پیروکار اس کی موافقت کرتے۔
(ب) فتح مصر کے بارے میں زبیر بن عوام (رض) کی یہ رائے تھی کہ اس کو تقسیم کردیا جائے، جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔